شرح سود میں مزید کمی: اچھا قدم
گزشتہ پانچ برس کے دوران عالمی کساد بازاری پاکستان جیسی کمزورمعیشت پرجس شدت سے اثرانداز ہوئی ہے،اس کا اندازہ کمرتوڑ مہنگائی اور بلند ترین شرح سود سے لگالینا کافی ہے۔2019ءکےتوسیعی فنڈسہولت پروگرام میںبین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے اس شرط پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ حکومت پاکستان شرح سود کو کنزیومر پرائس انڈکس سے مربوط کرے گی ،جس کے بعد سرمایہ کاروں کی بڑی تعدادنے اپنی رقوم کاروبار سے نکال لیں یا بیرون ملک منتقل کردیںاور قومی معیشت بار بار دیوالیہ ہونے کو پہنچی تاہم فروری2024ءمیں وزیراعظم شہبازشریف کی سربراہی میں قائم ہونے والی منتخب حکومت نے اس سارے پس منظر میں معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر فوری کام شروع کیا۔جس کا اولین نتیجہ حالیہ دوتین مہینوں میں مہنگائی کا پانچ سال سے جاری جمود ٹوٹنے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور جون 2024ءسے یکے بعد دیگرے اسٹیٹ بنک کی طرف سے 12ستمبر کو ،کی جانیوالی تیسری بار کمی سے شرح سود17.5فیصد پر آگئی،تاہم صنعتی و تجارتی حلقے اب بھی اسے اپنی توقعات کے برخلاف قرار دے رہے ہیں۔اسٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران مہنگائی اور بنیادی افراط زر دونوں میں تیزی سے کمی آئی ہےجبکہ معدنی تیل اور غذائی اجناس کی عالمی قیمتیں ریکارڈ سطح پرگریںاور یہ کہ آنے والے مہینوں میں اوسط مہنگائی 11.5تا13.5فیصد کی سابقہ پیشگوئی سے کم رہنے کا امکان ہے۔بنک کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران کاروباری اداروں کے اعتماد میں بہتری کا رجحان پیداہوا ہے۔تاجروں کی نمائندہ تنظیموں کا خیال ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کیے جانے سے قرضے غیرمعمولی مہنگے ہوئے اور یہ صنعت وتجارت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے،کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا،اور مینوفیکچرنگ سیکٹر بری طرح متاثر ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ تاجربرادری شرح سود کو سنگل عدد پر دیکھنا چاہتی ہے۔جس سے ان کے بقول، قرضے لینے کی حوصلہ افزائی ہوگی اور لاگت میں کمی سے کاروبار میں وسعت آئے گی۔دوسری طرف آئی ایم ایف کے ساتھ سات ارب ڈالر قرض پروگرام کے تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں،وزیرخزانہ محمداورنگ زیب کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 25ستمبر کو شیڈول کردیا گیا ہے،جس میں پاکستان کیلئے خصوصی قرض پروگرام کی توثیق کا روشن امکان ہے۔آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے سات ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکیج کی شرائط پوری کرلی ہیں،معیشت کی شرح نمو میں اضافہ جبکہ مہنگائی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔اسٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں متذکرہ کمی اور آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض پروگرام منظور ہونے کی راہ ہموار ہوجانے سے جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں غیرمعمولی تیزی آئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں موجودہ کمی اسٹیٹ بنک کی سخت مانیٹری پالیسی سے نہیںبلکہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے بعض انتظامی اقدامات کے ساتھ زرعی پیداوار میں بہتری کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ان کے بقول روپے کی قدر میں ٹھہرائو بھی مہنگائی کو کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے،جس سے درآمدات کی لاگت میں استحکام دیکھنے میں آرہا ہے۔تیل کی عالمی قیمتیں کم ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائرمستحکم ہوئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات پروگرام کے تحت ایسے اقدامات کرے جو برآمدات، ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں اضافےکا باعث بنیں۔ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات معیشت کی ناگزیر ضرورت ہے جبکہ کفایت شعاری پروگرام میں کسی بھی مصلحت کو خاطر میں نہ لایا جائے
.jpeg)
Comments
Post a Comment